ہندکو بولنے والوں کے نام

محترم بھائیو! الحمد للہ ہم اور آپ مسلمان ہیں۔ ہم اس حقیقت کے قائل ہیں کہ ہم تمام انسان انسانیت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے ایک جیسے مخلوق ہیں۔ یہ دنیا اللہ تعالیٰ کا ایک ملک ہے، قرآن اس ملک کا آئین ہے جبکہ قوم قبیلوں کا کردار اس میں اداروں اور اداروں کی شاخوں کی طرح ہے جبکہ زبان ہر قوم کی قومی پہچان ہے۔
بھائیو! ہماری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس ملک (دُنیا) میں اللہ تعالیٰ کا نظام مضبوط ہو اور آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اس ملک کے اداروں کو مضبوط بنانا انتہائی ضروری ہے۔ فرض کیجئے کہ اگر کسی ملک کے ادارے کمزور یا ختم ہوجائیں تو کیا اس ملک کا نظام درست چل سکتا ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ یہ قوم قبیلے اللہ تعالیٰ نے پہچان کے لیے بنائے ہیں (القرآن) پھر بنا دیا ہم نے تم کو قومیں اور قبیلے تا کہ تم ایک دوسرے سے پہچانے جاؤ۔ (الحجرات۔13)
اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بے مقصد نہیں بنائی لہٰذا دوستوں ہم انسان اللہ تعالیٰ کے مخلوق ہیں ہماری بہتری اسی میں ہے کہ ہمارے خالق نے ہمیں جس قوم (ادارے) میں پیدا کیا ہمیں جو زبان دی اس کو زندہ رکھیں کیونکہ وہ ہمارے خالق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں دی گئی نشانی ہے۔ (القرآن) اور جو تعظیم کرتا ہے اللہ کی نشانیوں کی سو یقیناً یہ (تعظیم کرنا) دل کا تقویٰ ہے۔ (الحج۔32)
سوچئے کہ حضورﷺ نے یہ کیوں کہا کہ جس نے اپنی نسب سے انکار کیا وہ ملعون (لعنتی) ہے کیونکہ آپﷺ کو معلوم تھا کہ خدانخواستہ اگر دنیا میں یہ قوم قبیلے اپنی پہچان کھو بیٹھی تو اس دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا یہ دنیا ایک ہجوم کی شکل اختیار کرے گی خاندان جو کہ یونٹ کی ابتداء ہے ختم ہوجائیں گے شخصی زندگی کا آغاز ہوجائے گا من مانی ہوگی حیاء اور غیرت نامی چیز دنیا سے رخصت ہوجائے گی، کیا ہم یہ سب ہوتا نہیں دیکھ رہے ہیں؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ کے اس ملک کے ادارےمضبوط ہوں؟
بھائیو! آپ جو زبان بول رہے ہیں وہ آپ کی قومی قبائلی ملکی یا مذہبی زبان ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ انجانے میں کسی کے بہکاوے میں آ کر اللہ تعالیٰ کے اس ملک کے ادارے پختون قوم کو کمزور کرنے کے سبب بن رہے ہیں؟ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ ہندکو آپ کی قومی قبائلی یا مذہبی زبان نہیں ہے۔ آج خود سے سوال کریں کہ کیا ہندکو اعوان، عباسی، قریشی، غزنوی وغیرہ خاندان کی قومی، قبائلی یا مذہبی زبان ہے۔ بھائیو! دراصل پختون قوم اللہ تعالیٰ کے اس ملک کا ایک اہم ادارہ ہے جس کو کمزور کرنے کی صدیوں سے سازش ہو رہی ہے۔ افغانستان میں اس کے خلاف مختلف قوموں کے لوگ کو لا کر بسایا گیا اور ان کو ایک زبان کے ذریعے آپس میں جوڑا گیا جو قطعاً ان کی قومی قبائلی یا مذہبی زبان نہیں پھر بھی آج اس زبان کو سرکاری حیثیت حاصل ہے بالکل اسی طرح پاکستان میں ہندکو کے ذریعے پختون قوم کو کمزور کرنے کی کوشش جاری ہے لیکن یہ نہیں جانتے کہ (القرآن) اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے (ال عمران۔54)
دوستو! ہم یہ نہیں کہتے کہ انسان کو اپنی قومی، قبائلی زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان نہیں بولنی چاہیے۔ بلکہ ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ انسان جتنی زبانیں سیکھ سکتا ہے سیکھنی چاہیے، اچھی بات ہے مگر اپنی قوم اپنی زبان کو چھوڑ کر کسی اور قوم یا زبان کو اپنا کہنا اس کے ذریعے کسی دوسرے قوم کو کمزور کرنا سراسر غلط ہے۔ سوچئے دوستو! ایسے کیا عوامل ہیں جو کہ آپ خود کو گندھارا تہذیب یعنی بدمت یا ہند سے تو جوڑنا پسند کرتےہیں مگر اسلام سےمحبت کرنے والی قوم پختونوں سے خود کو ایک ایسی زبان کے ذریعے الگ رکھ رہے ہیں جو کہ حقیقت میں آپ کی قومی، قبائلی یا مذہبی زبان نہیں ہے۔

بھائیو! ہم آپ سے یا آپ کے آنے والی نسلوں سے جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہم چاہتے ہیں کہ پختونوں میں آپ کے خلاف کوئی ہٹلر پیدا ہو۔ ہم تو بس آج 2010-10-08 کو آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ یہودیوں اور ان کے دوستوں کی سازش کا حصہ بن کر پختون قوم کو کمزور کرنے میں اپنا کردار ادا نہ کریں اپنے شجرہ نسب پر غور کریں آپ میں زیادہ تر ہمارے پختون بھائی ہیں واپس آئیں اور اس پختون قوم کو متحد، امن پسند اور ترقی یافتہ بنانے میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ یہ قوم (ادارہ) اللہ تعالیٰ کے اس ملک (دنیا) میں اللہ تعالیٰ کے نظام کو مضبوط بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔