مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت اور ضرورت

دوستو! ہم کب تک اپنے نالائق لیڈروں کے کہنے پر سورج مکھی کی طرح سورج کی طرف منہ پھیرتے رہیں گے؟ آج امریکہ خود کو دنیا کا سپر پاؤر کہتا ہے تو ہمارے لیڈرز کہتے ہیں کہ اپنے بچوں کو تعلیم انگریزی میں دو تا کہ وہ دنیا میںکچھ بن سکے، کل کو چین خود کو سپر پاؤر کہے گا تو پھر ہمارے یہی نالائق لیڈران  کہیں گے کہ اپنے بچوں کو چینی زبان میں تعلیم دو تاکہ وہ دنیا میںکچھ بن سکے۔ دوستو! آخر کب تک ہماری سوچ غلامانہ رہے گی؟ چین، روس، فرانس، جرمنی، ایران، اٹلی وغیرہ ممالک بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دے رہی ہیں اور بہت خوش ہیں تو پھر ہم کیوں انگریزوں کے پیچھے دُم کی طرح لگے ہوئے ہیں۔ دوستو! اگر ہم اپنی قوم کو متحد، امن پسند اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو اُن کی اپنی مادری زبان میں نظام تعلیم دیں۔ کیونکہ ایک تو مادری زبان میں نظام تعلیم سمجھ کے لیے انتہائی ضروری ہے اور سمجھ کے بغیر کسی قوم کی معاشی اور دفاعی ترقی انتہائی مشکل ہے۔ دوسری مادری زبان میں تعلیم قوم کی اپنی قومی اتفاق اور پہچان کے لیے بہت اہم ہے۔ دوستو! انسان میں قوم قبیلے پہچان کے لیے ہیں اور زبان ہر قوم کی قومی شناختی کارڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیوں کیا؟دوستو! جس طرح کسی ملک میں مختلف کاموں کے لیے مختلف ادارے (فوج، تعلیم، پولیس، عدالتیں وغیرہ) بنائے جاتے ہیں، بالکل اسی طرح یہ دنیا اللہ تعالیٰ کا ایک ملک ہے اور قوم، قبائل کا کردار اس میں اداروں اور ادارے کے شاخوں کی طرح ہیں۔ مطلب قومیں دنیا کے ادارے اور قبائل اس کی شاخیں ہیں اور یقیناً جس طرح کسی ملک کے نظام میں ایک ادارے کا بہت اہم کردار ہوتا ہے بالکل اُسی طرح دنیا میں قوموں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ فرض کیجئے کہ اگر کسی ملک کے ادارے ختم ہوجائے تو کیا اُس ملک کا نظام درست چل سکتاہے؟ دوستو! ہم تمام انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ ہمارے لیے بہتریہی ہے کہ ہمارے خالق نے ہمیں جس قوم (ادارے) میں پیدا کیا ہے ہمیں جو زبان دی ہے اس کو زندہ رکھیں اس کو مضبوط بنائیں تاکہ ہم اسلام اور انسانیت کی بہترین خدمت کرسکیں۔ دوستو! ہم بہت سارے پختونوں کو دیکھتے ہیں جو کہ نسلاً تو پختون ہوتے ہیں مگر خود کو فارسی وان یا ہندکو وان کہتے ہیں۔ اپنی زبان اور اپنی قوم یعنی اپنی شناخت جو اس کو اللہ تعالیٰ نے دی ہے، سے انکار کرتے ہیں۔ جب ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ بھائی آپ کا قوم قبیلہ کونسا ہے تو کہتے ہیں کہ میں اعوان یا فلاں فلاں ہوں اور ہماری زبان ہندکو وغیرہ ہے۔ ہم اُن سے کہتے ہیں کہ بھائی آپ جس خاندان یا قبیلے سے اپنا تعلق بتا رہے ہو اُس کا تعلق توہندوستان یا ہندکو زبان سے بالکل نہیں ہے تو پھر تم خود کو ہندوستانیوں میں کیوں شمار کرتے ہو؟ اور کسی دوسرے کی زبان کو اپنی زبان کہتے ہو۔ خدا کے لیے اگر آپ اعوان ہیں یا جو بھی ہیں پہلے پتہ کر لیں کہ آپ کس قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور آپ کی زبان کونسی ہے۔ ذرا سوچیں کہ حضورﷺ نے یہ کیوں کہاں کہ جس نے اپنی نسب سے انکار کیا وہ ملعون (لعنتی) ہے کیونکہ اُن کو معلوم تھا کہ اگر خدانخواستہ دنیا میں یہ قوم قبیلے اپنی پہچان کھو بیٹھی تو دنیا ایک ہجوم کی شکل اختیار کرلے گی خاندان جو یونٹ کی ابتداء ہے ختم ہوجائے گی۔ شخصی زندگی کا آغاز ہوجائے گا، ماں باپ بڑھاپے میں اولڈ ہاؤس  میں رہائش پذیر ہوجائیں گے۔ حیاء اور غیرت نامی چیز دنیا سے ختم ہوجائے گی۔ ہم یہاں پر والدین کو بھی یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آج اس سائنسی دور میں میڈیکل اور نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم بچے کو بے شمار ذہنی اور جسمانی امراض سے بچاتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے ذہنی طور پر مضبوط اور آزاد رہیں کسی فیلڈ میں ریسرچ کے لائق بن سکے تو اس کے لیے مادری زبان میں تعلیم انتہائی ضروری ہے۔

پیغام:    دوستو! آئیں مل کر اللہ تعالیٰ کے اس ملک کے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ہوجائیں اور مل کر یہ آواز اٹھائیں کہ ہمارے بچوں کو اُن کے مادری زبان میں مکمل نظام تعلیم دی جائے اور اُس کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی سلیبس کو ایک کیا جائے تاکہ ہماری قوم متحد امن پسند اور ترقی  یافتہ بن کر اسلام اور انسانیت کی بہترین خدمت کرسکے۔
>