پختون بچے کی فریاد

ہم بچے ماں کے پیٹ میں ساتویں مہینے سے اپنے ماں باپ کی زبان سیکھنے کی کوشش شروع کرتے ہیں اور تین چار سالوں میں ماں باپ کی زبان اس حد تک سیکھ لیتے ہیں کہ کسی حد تک بات سمجھ اور سمجھا سکیں۔ مگر جونہی ہم سکول جانا شروع کرتے ہیں تو آپ بڑے ہمیں دوسری زبانیں سکھانا شروع کردیتے ہیں، کیوں؟ آپ ہمیں شروع سے ہماری زبان میں علم کیوں نہیں دیتے؟ بجائے اس کے کہ آپ ہمیں ہماری زبان میں شروع سے دینی معاشرتی اور سائنسی علوم دیں، آپ ہمیں دوسرے قوموں کی زبانیں سیکھنے پر لگا دیتے ہیں، کیوں؟ کیا آپ بڑوں کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ علم زیادہ ضروری ہے یا دوسرے اقوام کی زبانیں؟ کیا ہمارے بڑوں میں کوئی بھی ان زبانوں کو نہیں سمجھتا کہ وہ ہمارے لیے ان زبانوں میں موجود علموں کا ترجمہ کرکے دیں۔ عجیب بات ہے، باقی قومیں اپنے بچوں کو سکول کے پہلے دن سے علم سکھانا شروع کرتی ہیں اور آپ ہمارے غیور اور عظیم والدین، اساتذہ اور بزرگ ہمیں دوسرے اقوام کی زبانیں سیکھنے پہ لگا دیتے ہیں، کیوں؟ خدا کے لیے دوسرے اقوام کی زبانیں ہم بعد میں بھی سیکھ لیں گے۔ ہم بچوں کو سکول کے پہلے دن سے مذہبی، معاشرتی اور سائنسی علوم ہماری مادری زبان میں دینا شروع کریں ورنہ اسی طرح ہم دوسرے قوموں کے لیے مشین یا مشین کے پرزے بنتے رہیں گے۔ خدا کے لیے ہمیں انسان بناؤ، ہمیں انسانیت کی وقار سے روشناس کراؤ۔ ہمیں سکول کے پہلے دن سے یہ یقین مت دو کہ ہماری قوم جاہل ہے اور ہماری قوم کی زبان دنیا میں ہمیں ایک باوقار زندگی گزارنے کے لائق نہیں بنا سکتی۔ ایسا نہ ہو کہ کل ہمیں اپنے لباس میں احساس کمتری محسوس، اپنی زبان بولتے ہوئے احساس کمتری محسوس ہو۔ سرکاری سکولوں کے بچوں میں پھر بھی تھوڑی بہت قوم اور ملک سے محبت ہوتی ہے، مگر پرائیویٹ سکولوں میں پڑھنے والے بچے صرف اور صرف انگریز کی غلامی کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ اُن میں قوم، قبیلے کی محبت بس نام کی ہی ہوتی ہے۔ اگر کوئی اُن کو احساس نہ دلائے تو وہ اپنے ملک میں خود کو مِس فِٹ (Mis-Fit)تصور كرتے ہیں جبکہ انگریز اُن کو ہمیشہ پاکی (Paki) یا بلڈی ایشینز (Bloody Asians) کے نام دیتے ہیں۔ مطلب گلی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا۔ ہم آپ کے بچے ہیں آپ کے قوم کی پہچان ہیں۔ ہمیںجان بوجھ کر دوسری قوموں کے غلام مت بنائیں۔ اس لیے خدا کے لیے ہمیں آج ابھی سے اپنی زبان میں علم دینے کا سلسلہ شروع کریں ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ جدید سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اسلام کے اس کم از کم پانچ کروڑ پختون قوم کو ناقابل شکست بنا دیں گے۔ (انشاء اللہ)