پختون بچوں کے نام

بچوں! آج جو لوگ اس پختون قوم کو جھگڑالو یا جاہل کہہ رہے ہیں ان ہی لوگوں کے آباؤ اجداد سینکڑوں سال تک اس پختون قوم کی غلامی کر چکے ہیں۔ بچوں! ایک وقت ایسا تھا کہ بہادر سے بہادر قوم یا ملک کو یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ میرویس خان، احمد شاہ ابدالی، ابراہیم لودھی اور شیرشاہ سوری جیسے کئی عظیم غیور پختون لیڈروں کامیدان جنگ میں سامنا کر سکتے۔ مگر بچوں! آہستہ آہستہ وقت نے اپنا رُخ تبدیل کیا اور جدید سائنسی علوم، جدید ٹیکنالوجی کا دور شروع ہوا جبکہ پختون قوم اس نئے دورکوسمجھ نہیں سکی اور وقت کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی علوم کی طرف توجہ نہیں دی کیونکہ پختون قوم کو یہ یقین تھا کہ ان کی خون میں پیدائشی طور پر جرأت، جنون اور غیرت موجود ہے اور انہی تین چیزوں (جرأت، جنون اور غیرت) کو استعمال کرتے ہوئے پختون قوم نے ہمیشہ دشمن کو میدان جنگ میں شکست دی اور آگے بھی انہی تین چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے دشمن کو شکست دیتی رہے گی۔ مگر بچوں! پختون قوم کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس نئے دور میں ناقابل شکست رہنے کے لیے ان کو جرأت، جنون اور غیرت کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی علوم، جدید ٹیکنالوجی کی بھی شدید ضرورت ہوگی کیونکہ یہ جدید ٹیکنالوجی جنگ کو میدان جنگ میں آمنے سامنے کی لڑائی سے بہت دور لے جائیں گی اور بزدل سے بزدل قوم بھی بہادر سے بہادر قوم کو بغیر سامنے آئے دور سے مشینوں یعنی جہازوں، میزائلوں وغیرہ کے ذریعے باآسانی شکست دے سکیں گی اور بچوں! پختون قوم بس اس بات کو وقت پر سمجھ نہیں سکی اور وقت پر جدید سائنسی علوم کی طرف توجہ نہیں دی جبکہ دوسری طرف دنیا کے دوسرے اقوام نے جدید سائنسی علوم کی طرف کمر کس لی اور بچوں! وہی ہوا کہ دنیا کے باقی اقوام نے وقت سے فائدہ اٹھایا اور جدید سائنسی علوم حاصل کیے اور پختون قوم سے جدید ٹیکنالوجی میں بہت آگے نکل گئے۔ بچوں! آج اُس رومن (انگریز) قوم کے بچے خود کو دنیا کے بادشاہ کہتے ہیں جن کے آباؤ اجداد میدان جنگ میں پختونوں کے پیروں کی آہٹ سے بھی گھبرا جاتے تھے اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ سائنس کسے کہتے ہیں؟ جو باتیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں لکھی ہیں، اور رسول ﷺ نے اپنے احادیث میں بیان کی ہیں اور جو راز اللہ تعالیٰ نے اپنے بنائے ہوئے کائنات میں ہماری آنکھوں سے اوجھل رکھے ہیں اور خود ہمیں حکم دیا ہے کہ میرے بنائے ہوئے کائنات میں وہ راز ڈھونڈو اور غور کرو تاکہ تمہیں اندازہ ہو کہ تمہارا خالق کتنا عظیم ہے۔ بس انہی باتوں اور رازوں کو سائنسدان دیکھنے، دکھانے اور کرنے کےذریعے ثابت کرنے کو سائنس کہتے ہیں۔جبکہ ان باتوں اور رازوں کو ظاہر کرنے کے لیے جو مشینیں اور آلات وغیرہ بنائے اور استعمال کیے جاتے ہیں یہ بھی سائنس کا ایک حصہ ہے۔
بچوں! میری ان تمام باتوں کا مقصد یہ ہے کہ پختون قوم کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بہترین خدمت اور حفاظت کے لیے دنیا کے اقوام میں ایک نمایاں مقام دیا ہے۔ اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے وہ تمام چیزیں عطاء کی ہیں جو کسی فیلڈ میں نمبرون بننے کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ پختونوں میں پیدائشی طور پر جرأت موجود ہے جو کہ کسی مشکل کام کو شروع کرنے کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے۔ جرأت کے بغیر آسان کام مشکل اور مشکل کام ناممکن بن جاتا ہے۔ پختون پیدائشی جنونی ہوتا ہے اور جنون کا فائدہ یہ ہے کہ جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتا ہے زندگی کی آخری سانس تک اُس کو پورا کرنے کی کوشش جاری رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ پختون کے خون میں غیرت شامل ہے جو کسی بھی فیلڈ میں باوقار بننے کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے۔ بچوں! غور کرو اگر پختون قوم جرأت، جنون اور غیرت کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی علوم بھی حاصل کرلیتا تو کیا اس جیسی کوئی دوسری قوم دنیا میں ملتی؟

بچوں! جو ہوا سو ہوا، آج اس پختون قوم کی نظریں تم پر ہیں۔ آج تم لوگوں کو اپنے ساتھ اپنی قوم کے ساتھ یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ ہم علم صرف روٹی کپڑا اور مکان کے لیے حاصل نہیں کریں گے بلکہ اسلام کی بہترین خدمت کے لیے اور اپنے پختون قوم کو دوبارہ باوقار بنانے کے لیے حاصل کریں گے۔ کیونکہ یہ قوم روٹی اور مکان کے بغیر تو رہ سکتی ہے مگر عزت کے بغیر نہیں۔ لہٰذا بچوں! آج ابھی سے تیز ترین کمپیوٹر تیار کرنے، تیز ترین جہاز تیار کرنے، میڈیکل، زراعت میں نئے نئے ایجادات کرنے اور کائنات کو مسخر کرنے کے خواب دیکھنا شروع کرو اس کے لیے آج سے ابھی سے جدید سائنسی علوم حاصل کرنے، جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لیے کمر کس لو یقیناً ایک دن تم اپنے یہ خواب دنیا کو سچ کرکے دکھا دو گے۔ بچوں! دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہوگا؟ اس کی طرف توجہ مت دو بس اپنے لیے ایک راستہ منتخب کرو اور مرتے دم تک منزل پانے کی لگاتار کوشش جاری رکھو۔ مگر یاد رہے جو بھی کرو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کرو اور ہاں جہاں بھی مشکل محسوس ہو تو قرآن اور احادیث سے مشورہ ضرور کرو کیونکہ اس سے بہترین اور مثبت سوچ والا رہبر آپ کو کائنات میں کہیں اور نہیں مل سکتا۔