پختون قوم کے نام

پختون بھائیو! اب بھی وقت ہے آج ابھی سے اپنے بچوں کو جدید سائنسی علوم، جدید ٹیکنالوجی کی طرف راغب کریں کہ یہی صحیح طریقہ ہے اسلام کی بہترین خدمت کا اور اپنے پختون قوم کو باوقار بنانے کا۔ ہم پختون ایک طرف تو اسلام سے محبت کے دعوے کرتے ہیں لیکن دوسری طرف اسلام کی بہترین خدمت کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتے۔ اللہ اپنی کتاب قرآن مجید میں فرماتے ہیں۔ مفہوم: اے مسلمانو! اپنے بچاؤ کا سامان لے لو۔ (سورۃ النساء 71)۔ کیا ہمارے پاس اپنے بچاؤ کا سامان ہے؟ سوچئیں اگر ٹیکنالوجی اسرائیل، امریکہ یا روس کی ہو اور قوم پختون ہو تو کیا یہ ممکن ہے کہ امریکہ جیسا ملک کئی سمندر پار کرکے کسی اسلامی ملک کو تہس نہس کرسکے۔ ہم چیختے چلاتے ہیں کہ اسرائیل یہ، اسرائیل وہ، مگر اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کیوں؟ کیا اسرائیل بہت بڑا ملک ہے؟ نہیں، اسرائیل کی آبادی زیادہ سے زیادہ 30 لاکھ کے لگ بھگ ہوگی پھر بھی وہ ہم پر بھاری ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اسرائیل کا بچہ بچہ سائنسی علوم میں ماہر ہے۔ اب تک اسرائیل یعنی یہود قوم تقریباً 36 ہزار چھوٹے بڑے جن میں نیوٹن اور آئن سٹائن جیسے سائنسدان شامل ہیں پیدا کر چکے ہیں اور کیا ہم نے کبھی سائنس کی تعریف جاننے کی کوشش کی ہے؟ کہ سائنس کس چیز کو کہتے ہیں؟ آپ کو معلوم ہے کہ جو باتیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں لکھی ہیں، اور رسول ﷺ نے اپنے احادیث میں بیان کی ہیں اور جو راز اللہ تعالیٰ نے اپنے بنائے ہوئے کائنات میں ہماری آنکھوں سے اوجھل رکھے ہیں اور خود ہمیں حکم دیا ہے کہ میرے بنائے ہوئے کائنات میں وہ راز ڈھونڈو اور غور کرو تاکہ تمہیں اندازہ ہو کہ تمہارا خالق کتنا عظیم ہے۔ بس انہی باتوں اور رازوں کو سائنسدان دیکھنے، دکھانے اور کرنے کےذریعے ثابت کرنے کو سائنس کہتے ہیں۔ جبکہ ان باتوں اور رازوں کو ظاہر کرنے کے لیے جو مشینیں اور آلات وغیرہ بنائے اور استعمال کیے جاتے ہیں یہ بھی سائنس کا ایک حصہ ہے۔ سوچئیں اگر ہمیں اسلام سے محبت ہے اور ہم پختون قوم خود کو اسلام کا فوجی مانتے ہیں تو پھر ہم سائنسی علوم سے ریسرچ سے دور کیوں ہیں؟ کیا اسلام کے اس فوج کو جدید فوجی مہارت، یعنی جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں؟ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ ترجمہ: کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلے (پارہ 13 سورۃ الرعد آیت نمبر11)۔ لہٰذا اے پختون قوم! اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اپنے اندر اتفاق پیدا کرو اور اپنی قوم کے لیے نہیں تو کم از کم اسلام کی خاطر جدید سائنسی علوم، جدید ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرو اور اسلام کے اس پانچ کروڑ کے لگ بھگ آبادی والے فوج کو منظم رکھنے کے لیے اپنی زبان پشتو زبان کو فروغ دیں تاکہ اسلام کے اس فوج کی پہچان برقرار رہیں کہ یہی ہے اسلام کی بہترین خدمت کا صحیح طریقہ۔