پختون قوم اور سائنس

کیا صرف غیرت، جرأت، جنون ہم پختونوں کو آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں کسی بھی فیلڈ یا میدان جنگ میں نمبرون بنا سکتی ہے؟
میرے خیال میں تو بالکل نہیں کیونکہ آج اگر ہم پختونوں کو اس جدید علمی دور جسے ٹیکنالوجی کا دور کہتے ہیں، میں کسی بھی فیلڈ میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو اس کے لیے ہمارے پاس غیرت، جرأت اور جنون کے ساتھ ساتھ علم اور عمل کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ آج کی اس ٹیکنالوجی کے دور میں علم اور عمل کے بغیر غیرت، جرأت اور جنون صرف بے وقوفی اور یا پاگل پن کے علاوہ کچھ نہیں۔
اس حقیقت سے مجھے انکار نہیں کہ غیرت کے بغیر جنگ جیتنا تو دور کی بات، میدان جنگ میں لڑنے کے لیے اُترنا بھی انتہائی مشکل ہے، کیونکہ بے غیرت انسان کے لیے آزادی یا عزت نفس کوئی اہمیت نہیں رکھتی مگر بندوق لے کر B52 جیسے طیاروں کے مقابلے کے لیے نکلنا بے وقوفی یا پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے؟
اب ہم پختونوں کو یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ غیرت، جرأت اور جنون کے ساتھ ساتھ علم اور عمل دنیا کی کسی بھی فیلڈ میں نمبر ون بننے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ کیونکہ اگر غیرت، جرأت اور جنون مل کر ہمیں کسی فیلڈ یا میدانِ جنگ میں لڑنے کا حوصلہ دیتی ہے تو علم اور عمل مل کر ہمیں نمبر ون بننے کے لیے طاقت اور وسائل فراہم کرتے ہیں۔
علم اور عمل کے اس فارمولے اور آپسی اتفاق کو حضورﷺ نے ایک حدیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے۔ حدیث کا مفہوم ہے، جب لوگ علم حاصل کریں اور عمل کرنا چھوڑ دیں، زبان سے اظہار محبت کریں اور دلوں میں نفرت رہے، قربتیں ختم کرنے لگیں اس وقت اللہ ان پر لعنت کرتا ہے، انہیں بہرا کردیتا ہے ان کی آنکھوں سے بینائی چھین لیتا ہے۔ (طبرانی)
کبھی ہم پختونوں نے اس بات پر غور کیا ہے کہ آخر ہمیں دشمن کے خلاف خود کش حملوں کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے خون میں موجود غیرت، جرأت اور جنون مل کر ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ ہم دشمن کو نیست و نابود کر دیں۔ مگر دشمن کے پاس جدید علم اور عمل ہے۔ میرا مطلب جدید ٹیکنالوجی، اور ہم اُس وقت تک دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمن کے قریب بھی نہیں جاسکتے جب تک اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار نہ ہوجائیں۔ مجھے رشک آتا ہے ایسے نوجوانوں پر جو اپنی جان قربان کرکے دشمن کے چند ایک سپاہیوں یا کارِندوں کو اپنے ساتھ خودکش حملے میں ختم کر دیتے ہیں۔ سوچیے! اگر یہی جنونی نوجوان علم اور عمل کا راستہ اختیار کرے اور جنون کی حد تک محنت کرکے نئی ٹیکنالوجی حاصل کرے تو مجھے مکمل یقین ہے کہ چند سالوں کے بعد ہمارا دشمن ہم پر خود کش حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا  ہوگا۔
اس حقیقت سے دنیا پوری طرح واقف ہےکہ ہم پختونوں کے خون میں دنیا کی کسی بھی فیلڈ میں نمبر ون بنانے والی پانچ انتہائی اہم چیزوں (غیرت، جرأت، جنون، علم اور عمل) میں سے تین چیزیں (غیرت، جرأت اور جنون) پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہیں یعنی اگر ہم پختونوں کو کسی بھی فیلڈ میں نمبر ون بننا ہے تو ہمیں صرف دو چیزوں کی انتہائی ضرورت ہے اور وہ ہے مسلسل علم اور مسلسل عمل(مسلسل تھیوری اور پریکٹیکل)۔ اگر ہم پختون قوم کسی طرح اس مسلسل علم اور عمل کے فارمولے پر عمل کریں تو یقیناً صرف چند سالوں میں اس کم از کم پانچ کروڑ کی آبادی والے پختون خاندان میں ہزاروں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور عبدالاحد مہمند جیسے غیور سائنسدان سامنے آسکتےہیں۔
میں اگر گنتی پر آؤں تو کئی سو ایسے پختونوں کے نام لکھ سکتا ہوں جنہوں نے اپنی فیلڈ میں دنیا کو بے تاج بادشاہ بن کر دکھایا مگر دُکھ کی بات یہ ہے کہ کم از کم پانچ کروڑ کی آبادی والے اس خاندان میں کئی سو نمبر ون لوگوں کا ہونا آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ ایک مرتبہ پھر میں یہ عرض کردوں کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس قوم میں قابلیت کی کمی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قوم میں بہت کم لوگوں نے مسلسل علم اور عمل کے فارمولے پر عمل کیا ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جب بھی کسی پختون نے مسلسل علم اور عمل کے فارمولے پر عمل کیا ہے اُس نے یقینی طور پر اپنی فیلڈ میں نمبر ون بن کر دکھایا ہے۔ مجھے اس حقیقت پر مکمل یقین ہے کہ ہر پختون کی خون میں دنیا کے ہر میدان میں یقینی فتح حاصل کرنے کی صلاحیت وراثتی طور پر غیرت، جرأت اور جنون کی شکل میں موجود ہیں اور اسی صلاحیت کو لے کر مسلسل علم اور عمل کے فارمولے پر چل کر ہمیں اس پختون خاندان میں ہزاروں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پیدا کرنے ہوں گے، میرویس خان اور ابدالی جیسے کئی اس قوم کو ایک کرنے والے عظیم لیڈر پیدا کرنے ہوں گے،ہزاروں کی تعداد میں حاجی صاحب ترنگزئی جیسے عظیم مجاہد پیدا کرنے ہوں گے، کئی ابدالی اور کئی شیر شاہ سوری جیسے پختون قوم اور پشتو زبان سے محبت کرنے والے شہسوار پیدا کرنے ہوں گے۔ مگر اس خیال کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اس پختون قوم کے ہر فرد کو اپنا فرض مکمل طور پر ادا کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں مل کر پختون نوجوانوں کو علم اور عمل کی طرف راغب کرنا ہوگا اُن کو بار بار اپنی فیلڈ یا مضمون میں ریسرچ کی تلقین کرنی ہوگی، ہمیں ہر پختون بچے کو اپنے خاندان کا یقینی حصہ تسلیم کرنا ہوگا۔ ہم پختونوں کو ہر حال میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔ چاہے کوئی پختون صحیح ہو یا غلط، کسی بھی موڑ پر اُس کا ساتھ نہ چھوڑنے کا عزم کرنا ہوگا۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ دو لڑکوں میں باہم جھگڑا ہوگیا ایک مہاجر تھا اور دوسرا انصاری۔ پس اس مہاجر یا اس کے ساتھیوں نے آواز لگائی، اے مہاجرو! میری مدد کو دوڑو، اس طرح انصاری نے پکارا اے انصار! میری مدد کو آؤ۔ یہ سن کر آنحضرتﷺ باہر نکلے اور فرمایا یہ کیا جاہلیت کی پکاریں ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! ایسا نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ دو لڑکے باہم لڑ پڑے اور ایک دوسرے کو لاتوں اور گھونسوں سے خوب مارا فرمایا مضائقہ نہیں۔ حاضرین کو چاہیے کہ اپنے بھائی کی مدد کریں خواہ وہ ظالم ہو کہ مظلوم۔ اگر وہ ظالم ہے تو اُسے ظلم کرنے سے روکیں کہ یہی اس کی مدد ہے۔ اگر مظلوم ہے تو اُس پر ظلم کی روک تھام کے ذریعے اس کی مدد کریں۔ (یہ روایت شیخ محمد بن عبداللہ مراکشی کی کتاب انتخاب مسلم سے نقل کی گئی ہے)۔ غور کریں اس روایت میں حضورﷺ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ آپ کے قوم کا کوئی فرد یعنی آپ کا بھائی اگر ظالم تو اس کو چھوڑ دو، بلکہ یہ فرمایا کہ اُس کا ساتھ دو، اگر وہ ظالم ہے تو اُس کو ظلم کرنے سے روکو کہ یہی اُس کی مدد ہے اور اگر وہ مظلوم ہے یعنی اُس پر ظلم ہو رہا ہے تو اس پر ہونے والے ظلم کو روکو کہ یہی اُس کی مدد ہے۔
خیر اگر ہم پختون واقعی چاہتے ہیں کہ ہم آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں بھی ناقابل شکست رہیں تو اس کے لیے ہمیں مل کر اتفاق کے ساتھ کام کرنا ہوگا اور اپنے اندر اتفاق پیدا کرنے اور اس کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں اپنی زبان پشتو زبان کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ ہماری زبان ہی اربوں انسانوں میں ہماری پہچان کراتی ہے اور ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں، اس کے علاوہ ہمیں ہر پختون بچے کو اپنے خاندان کا یقینی سرمایہ تسلیم کرنا ہوگا، اُس کی ترقی کے لیے دُعاؤں کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کرنے پڑیں گے اور یہ سب تب ممکن ہوسکتا ہے جب ہم دل سے ہر پختون بچے کو اپنے خاندان کا یقینی سرمایہ تسلیم کرے اُس کی ترقی اپنی ترقی سمجھیں اپنی قوم کی ترقی سمجھیں اور ہر پختون بچے کی ناکامی ہمیں اپنی ناکامی محسوس ہو۔ ہمیں مل کر ہر پختون بچے کی اس طرح تربیت کرنی ہوگی کہ اُن میں زیادہ سے زیادہ تحقیق کرنے والے سامنے آئیں، اس کے لیے ہمیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور عبدالاحد مہمند جیسے پختون ریسرچرز کو بچوں کے سامنے رکھنا ہوگا، اُن کا ذکر بچوں کے سامنے ہیروز کی طرح بار بار دُہرانا ہوگا اور یقیناً ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے ہیروز اس پختون خاندان کی شان اور بہت بڑا سرمایہ ہے اور ان ہی جیسے تحقیق کرنے والے اس قوم کو آج کے اس علمی میدان میں بھی ناقابل شکست بنانے کے لیے اہم ترین ثابت ہو سکتے ہیں۔ اور اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ہم اس پختون قوم میں زیادہ سے زیادہ ریسرچرز پیدا کریں۔ یقین کریں کہ یہ اتنا مشکل کام نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں اور خاص طور پر پختونوں کے لیے تو واقعی اپنی فیلڈ یا مضمون میں ریسرچر کرنا کوئی بڑی بات نہیں، اُس کی وجہ یہ ہے کہ پختونوں میں پیدائشی طور پر جنون کا مادہ ذرا زیادہ ہوتا ہے اور آپ کو معلوم ہوگا کہ جنون کسی بھی فیلڈ یا مضمون کی گہرائی میں جانے کے لیے ایک انتہائی ضروری چیز ہے، ہم صرف اتنا تو کر سکتے ہیں کہ اپنے قوم کے بچوں کو یہ ذہن نشین کرائیں کہ علم حاصل کرو مگر صرف اپنا پیٹ پالنے کے لیے نہیں بلکہ اس کائنات کی تسخیر کے لیے، اسلام کی سربلندی کے لیے اور اپنی قوم کی وقار کے لیے، اس کے علاوہ ہمیں اپنی قوم کے بچوں کا ہر مثبت سوچ اور ہر مثبت فیصلے میں یقینی ساتھ دینا ہوگا تاکہ وہ اپنے مثبت ارادوں کو آسانی کے ساتھ عملی جامہ پہنا سکیں۔
یاد رہے اگر آج ہم پختونوں کو اس علمی جنگ میں ناقابل شکست بننا ہے تو اس کے لیے ہمیں ہر فیلڈ میں ریسرچ کی طرف توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ریسرچ ہی علم کی گہرائیوں اور بلندیوں کو سر کرنے کا ایک یقینی ذریعہ ہے۔ میں آپ کو ہرگز یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنے مضمون کو یا اپنی فیلڈ کو چھوڑ کر کسی دوسرے مضمون یا فیلڈ میں ریسرچ شروع کریں بلکہ میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ آپ کا جو بھی مضمون ہے یا آپ جو بھی کام کرتے ہیں بس اُس کے متعلق مسلسل علم حاصل کریں اس کے لیے اپنے مضمون یا فیلڈ کے متعلق تمام لکھنے والوں کی کتابیں پڑھیں، چاہیں لکھنے والے کا تعلق کسی بھی ملک، کسی بھی مذہب سے ہو اُن کو پڑھیں اُس پر غور کریں کہ لکھنے والا کیا سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پھر اُن تمام کتابوں کے نچوڑ کو نوٹ کریں اُس کو اسلامی اصولوں کے مطابق بنائیں او اُن پر مسلسل عمل کریں۔ اس سے نہ صرف آپ اپنے فیلڈ میں اور زیادہ ترقی کریں گے بلکہ آپ کے علم اور تجربے میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جائے گا۔
حضرت ابن عباس﷜ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ علم، مال اور سلطنت میں سے جو چیز چاہیں اپنے لیے پسند کرلیں۔ اُنہوں نے علم کو ترجیح دی۔ مال اور سلطنت اُنہیں علم کے ساتھ عطا ہوگئی۔
آخر میں ایک مرتبہ پھر میں پختون نئی نسل کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے لیے کسی بھی مضمون یا فیلڈ میں نمبر ون بننا دوسرے قوموں سے کئی زیادہ آسان ہے، اگر یقین نہیں آتا تو اپنے مضمون یا فیلڈکے دس کامیاب ترین لوگوں کی زندگی کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کریں اور غور کریں کہ دس کے دس لوگوں میں کون سی ایسی باتیں ہیں جو کہ مشترک ہیں، آپ یقین کریں کہ دس کے دس لوگوں  میں کم از کم یہ چار باتیں (جرأت، جنون، کے علاوہ مسلسل علم اور مسلسل عمل) یقینی طور پر مشترک ہوں گی۔ جبکہ ہم پختونوں کے خون  میں جرأت، جنون کے ساتھ ساتھ غیرت (جو کہ انسان میں وقار (Prestige) پیدا کرتا ہے) بھی پیدائشی طور پر موجود ہوتا ہے یعنی پختونوں کو کسی بھی فیلڈ میں نمبرون بننے کے لیے صرف دو چیزوں کی انتہائی ضرورت ہے اور وہ ہے مسلسل علم اور عمل۔ لہٰذا اگر ہم پختون دنیا میں آج کے اس علمی دور جسے ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے، میں بھی ناقابل شکست بننا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں مسلسل علم اور عمل کے فارمولے پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ یاد رہے یہاں پرمسلسل سے میرا مراد مستقل مزاجی ہے۔