بنام محترم پختون سٹوڈنٹس

السلام علیکم!
محترم! آج میں آپ کی عدالت میں عرضی لکھ رہا ہوں، اُمید ہے آپ غور ضرور فرمائیں گے۔ سب سے پہلے میں اس گستاخی کے لیے معافی چاہتا ہوں کہ میں ایک پختون سٹوڈنٹ کو اُردو میں عرضی لکھ رہا ہوں مگر میری گستاخی کا سبب یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ زیادہ تر پختون سٹوڈنٹس پشتو زبان لکھ پڑھ نہیں سکتے۔ خیر مطلب کی طرف آتے ہیں۔
محترم! میں اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہوں کہ ہم تمام انسان انسانیت کے لحاظ سے برابری کی سطح پر اللہ تعالیٰ کے مخلوق ہیں۔ قوم قبائل پہچان کے لیے ہیں۔ جب کہ زبان ہر قوم کا قومی شناختی کارڈ ہے۔ محترم! میں فساد نہیں چاہتا، نہ میں کسی ملک یا قوم کے خلاف ہوں، اور نہ میں کسی سیاسی پارٹی کا ورکر ہوں، میں تو بس صرف اپنی قوم کو متحد امن پسند اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے میں چاہتا ہوں کہ یہاں پر ہمارے اس صوبے میں صوبہ سندھ کی طرح ہمارے بچوں کو پشتو زبان میں، مگر یکساں نظام تعلیم ملے۔ آپ مجھے بے وقوف سمجھ رہے ہوں گے کہ آج تو انگریزی کا دور ہے اور یہ بے وقوف ترقی کے لیے پشتو زبان میں تعلیم کی بات کر رہا ہے۔ تو جناب اس وقت دنیا میں کوئی بھی ایسا ترقی یافتہ آزاد ملک نہیں جس کا نظام تعلیم مادری زبان میں نہ ہو، یورپ کے تمام چھوٹے بڑے ممالک میں نظر دوڑائیں، آپ کو ہر ملک میں نظام تعلیم کا زیادہ تر حصہ مادری زبان میں ملے گا۔ کیا چین، فرانس، جرمنی، ملیشیاء، جاپان، اسرائیل، کوریا اور ایران جیسے کئی چھوٹے بڑے ملکوں نے اس لیے ترقی کی کہ اُن کا ذریعہ تعلیم انگریزی ہے؟
ارے محترم! بے وقوف میں نہیں، بے وقف پاکستان کے قانون ساز ادارے، سیاسی قائدین اور ہمارے عظیم والدین ہیں جو یہ نہیں جانتےکہ اپنے بچوں کو انگریزی میں تعلیم دے کر ہم انگریزوں کے لیے صرف نوکر تیار کر رہے ہیں یا پاکستان کو متحد، پر امن اور ترقی یافتہ بنا رہے ہیں۔ یہ لوگ اتنی سی بات پر غور نہیں کرتے کہ نوکر چاہے جتنی بھی ترقی کرے نوکر ہی رہتا ہے۔ اس بات کو دنیا کے بڑے بڑے سکالر، UNO اور اب تو میڈیکل سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ مادری زبان میں تعلیم بچوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ مادری زبان میں تعلیم کسی قوم کی بقاء اور پہچان کے لیے تو ضروری ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ مادری زبان میں تعلیم بچے کی شعوری اور لاشعوری مضبوطی کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔
محترم پختون سٹوڈنٹس! میں اس عرضی کو اور زیادہ پھیلانا نہیں چاہتا کیونکہ پھر یہ عرضی ایک کتابی شکل اختیار کرلے گی جس کا آپ سب کو مفت پہنچانا مشکل ہوجائے گا۔ دوسرا آپ اس کو پڑھنے کے لیے وقت اور توجہ نہیں دے سکیں گے لہٰذا میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری اس عرضی کو غور سے پڑھیں، پھر مجھے جہاں آپ چاہیں طلب کرکے اس پر میرے ساتھ بحث کریں۔ اگر میں صحیح ہوں تو میرے ساتھ مل کر پاکستان کے قانون ساز اداروں اور سیاسی لیڈران کے سامنے یہ انقلابی آواز اٹھائیں کہ پختون قوم پاکستان میں غلام نہیں ہے بلکہ پختون پاکستان میں برابر کا حصہ دار ہے اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم پختون پاکستان کے ساتھ وفادار رہیں تو ہمارے ساتھ یہ غلامانہ رویہ بند کردیں۔ ہمارے صوبے میں پشتو زبان میں یکساں نظام تعلیم رائج کریں یعنی تمام سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا سلیبس ایک کریں تاکہ پختونوں کی سوچ کو قریب لانے میں مدد ملے۔ ان کے درمیان ہونے والے تعصب اور فرقہ واریت کے جھگڑوں کو ختم کیا جاسکے۔ یہ قوم ایک امن پسند قوم بن سکے، پختون بچوں کو اسلامیات، سائنس اور معاشرتی علوم جیسے مضامین پشتو زبان میں پڑھائیں تاکہ یہ قوم شعوری اور لاشعوری طور پر مضبوط بنے۔ اس قوم میں زیادہ سے زیادہ ریسرچرز پیدا ہو تاکہ یہ قوم پاکستان اور اُمت مسلمہ کی دفاعی اور معاشی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔
ایک مرتبہ پھر میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میری اس عرضی پر غور کریں۔
اس کے بعد جہاں آپ چاہیں مجھے طلب کرکے میرے ساتھ اس پر بحث کریں اگر میں صحیح ہوں، تو میرے ساتھ مل کر پختون قوم کو متحد، امن پسند اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے قدم اُٹھائیں۔
آپ کے جواب کا، آپ کے بُلاوے کا، آپ کے آنے کا انتظار کروں گا۔

آپ کا بھائی
ڈاکٹر خان